إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَقْرَأَ فِيهِ، وَسَكَتَ فِيمَا أُمِرَ أَنْ يَسْكُتَ فِيهِ" وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا سورة مريم آية 64، وَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ جن نمازوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قراءت کا حکم دیا گیا، ان میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قراءت فرمائی، اور جہاں خاموش رہنے کا حکم دیا وہاں خاموش رہے، « ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [مريم: 64] » ”اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“ اور « ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب: 21] » ”تمہارے لئے اللہ کے پیغمبر کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3399]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 774
الحكم: إسناده صحيح، خ: 774