حُسَيْنٌ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ : حَضَرَتْ عِصَابَةٌ مِنَ الْيَهُودِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، حَدِّثْنَا عَنْ خِلَالٍ نَسْأَلُكَ عَنْهُا، لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا نَبِيٌّ , فَكَانَ فِيمَا سَأَلُوهُ، أَيُّ الطَّعَامِ حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ قَبْلَ أَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ؟ قَالَ:" فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ إِسْرَائِيلَ يَعْقُوبَ عَلَيْهِ السَّلَام مَرِضَ مَرَضًا شَدِيدًا فَطَالَ سَقَمُهُ، فَنَذَرَ لِلَّهِ نَذْرًا لَئِنْ شَفَاهُ اللَّهُ مِنْ سَقَمِهِ، لَيُحَرِّمَنَّ أَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ، وَأَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ، فَكَانَ أَحَبَّ الطَّعَامِ إِلَيْهِ لُحْمَانُ الْإِبِلِ، وَأَحَبَّ الشَّرَابِ إِلَيْهِ أَلْبَانُهَا؟" فَقَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہودیوں کا ایک وفد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم آپ سے چند باتیں پوچھنا چاہتے ہیں، آپ ہمیں ان کا جواب دیجئے کیونکہ انہیں کوئی نبی ہی جان سکتا ہے، اس کے بعد انہوں نے جو سوالات کئے، ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ تورات کے نازل ہونے سے پہلے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے اوپر کون سا کھانا حرام کر لیا تھا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر تورات کو نازل کیا تھا، کیا تم نہیں جانتے کہ ایک مرتبہ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت شدید بیمار ہوگئے تھے، ان کی بیماری نے جب طول پکڑا تو انہوں نے اللہ کے نام کی منت مان لی کہ اگر اللہ نے انہیں ان کی اس بیماری سے شفا عطا فرما دی تو وہ اپنی سب سے محبوب پینے کی چیز اور سب سے محبوب کھانے کی چیز کو اپنے اوپر حرام کر لیں گے، اور انہیں کھانوں میں سب سے زیادہ اونٹ کا گوشت پسند تھا، اور پینے کی چیزوں میں اس کا دودھ سب سے مرغوب تھا؟“ انہوں نے کہا: واللہ! ایسا ہی ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2471]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف، عبدالحميد بن بهرام تكلم فى روايته عن شهر، وشهر بن حوشب مختلف فيه، والأكثر على تضعيفه