بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3476
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3476
حدیث نمبر: 3476 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ : دَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى طَعَامٍ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ :" لَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرِّبَ إِلَيْهِ حِلَابٌ فِيهِ لَبَنٌ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَشَرِبَ مِنْهُ، فَلَا تَصُمْ، فَإِنَّ النَّاسَ مُسْتَنُّونَ بِكُمْ". قَالَ ابْنُ بَكْرٍ وَرَوْحٌ إِنَّ النَّاسَ يَسْتَنُّونَ بِكُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو عرفہ کے دن کھانے پر بلایا، انہوں نے کہہ دیا کہ میں تو روزے سے ہوں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آج کے دن کا (احرام کی حالت میں) روزہ نہ رکھا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس دن دودھ دوہ کر ایک برتن میں پیش کیا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا، اور لوگ تمہاری اقتدا کرتے ہیں (تمہیں روزہ رکھے ہوئے دیکھ کر کہیں وہ اسے اہمیت نہ دینے لگیں)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3476]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين ابن جريج وبين عطاء
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين ابن جريج وبين عطاء
← پچھلی حدیث (3475) باب پر واپس اگلی حدیث (3477) →