مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ: رَكِبَتْ امْرَأَةٌ الْبَحْرَ، فَنَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَصُومَ، فَأَتَتْ أُخْتُهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ،" فَأَمَرَهَا أَنْ تَصُومَ عَنْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت بحری سفر پر روانہ ہوئی، اس نے یہ منت مان لی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے خیریت سے واپس پہنچا دیا تو وہ ایک مہینے کے روزے رکھے گی، اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح سالم واپس پہنچا دیا لیکن وہ مرتے دم تک روزے نہ رکھ سکی، اس کی بہن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ سارا واقعہ عرض کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم روزے رکھ لو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3137]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى يحيى، ثم هو موقوف
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى يحيى، ثم هو موقوف