بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3127
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3127
حدیث نمبر: 3127 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَأْذَنُ لِأَهْلِ بَدْرٍ، وَيَأْذَنُ لِي مَعَهُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَأْذَنُ لِهَذَا الْفَتَى مَعَنَا، وَمِنْ أَبْنَائِنَا مَنْ هُوَ مِثْلُهُ؟! فَقَالَ: عُمَرُ إِنَّهُ ممَنْ قَدْ عَلِمْتُمْ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُمْ ذَاتَ يَوْمٍ، وَأَذِنَ لِي مَعَهُمْ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ هَذِهِ السُّورَةِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ فَقَالُوا:" أَمَرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فُتِحَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ وَيَتُوبَ إِلَيْهِ". فَقَالَ لِي: مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَيْسَتْ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ أَخْبَرَ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بِحُضُورِ أَجَلِهِ، فَقَالَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 فَتْحُ مَكَّةَ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا سورة النصر آية 2 فَذَلِكَ عَلَامَةُ مَوْتِكَ، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا سورة النصر آية 3 فَقَالَ: لَهُمْ كَيْفَ تَلُومُونِي عَلَى مَا تَرَوْنَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب اہل بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتے تو ان کی موجودگی میں مجھے بھی شریک ہونے کی اجازت دے دیتے، بعض اصحاب بدر کہنے لگے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نوجوان کو تو ہمارے ساتھ شریک ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں جبکہ اس جیسے تو ہمارے بیٹے بھی ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا: یہ سمجھدار ہے۔ ایک دن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اصحاب بدر کو اپنے پاس آنے کی اجازت دی اور مجھے بھی ان کے ساتھ اجازت مرحمت فرمائی، اور ان سے سورہ نصر کے متعلق دریافت کیا، وہ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جب انہیں فتح یابی ہو تو وہ استغفار اور توبہ کریں، پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اے ابن عباس! تم کیا کہتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے رائے یہ نہیں ہے، دراصل اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی موت کا وقت قریب آ جانے کی خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ جب اللہ کی طرف سے مدد آجائے اور مکہ مکرمہ فتح ہو جائے، اور آپ لوگوں کو دین الٰہی میں فوج در فوج شامل ہوتے ہوئے دیکھ لیں تو یہ آپ کے وصال کی علامت ہے، اس لئے آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کیجئے اور اس سے استغفار کیجئے، بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب تم نے دیکھ لیا، پھر تم مجھے کس طرح ملامت کر سکتے ہو؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4294
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4294
← پچھلی حدیث (3126) باب پر واپس اگلی حدیث (3128) →