سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَهَا، حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَامَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ، فَقَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا هَذِهِ السَّاعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ عشاء کی نماز کو اتنا مؤخر کیا کہ رات کا کافی حصہ اللہ کی مشیت کے مطابق بیت گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! عورتیں اور بچے تو یوں ہی سو گئے، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ عشاء کی نماز اسی وقت پڑھا کریں۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7239، م: 642.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7239، م: 642.