سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ"، أَوْ قَالَ" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہوتا ہے جو پہلے ہی سے مہینہ منا لیتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”جب تک چاند کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لو، روزہ نہ رکھو“، یا یہ فرمایا کہ ”چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1931]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عمرو بن دينار مجهول.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه عمرو بن دينار مجهول.