يَحْيَى ، عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ وَإِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَةٌ، فَذَكَرَ مِنْ ضُرُوبِ الشَّرَابِ، فَقَالَ: اجْتَنِبْ مَا أَسْكَرَ مِنْ زَبِيبٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ مَا سِوَى ذَلِكَ، قَالَ: مَا تَقُولُ فِي نَبِيذِ الْجَرِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا تعلق خراسان سے ہے، ہمارا علاقہ ٹھنڈا علاقہ ہے، اور اس نے شراب کے برتنوں کا ذکر کیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو چیزیں نشہ آور ہیں مثلا کشمش یا کھجور وغیرہ، ان کی شراب سے مکمل طور پر اجتناب کرو، اس نے پوچھا کہ مٹکے کی نبیذ کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.