بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2008
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2008
حدیث نمبر: 2008 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ ، يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عَبَّادٌ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي الْأَعْمَشَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ، فَأَتَتْهُ قُرَيْشٌ، وَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، وَعِنْدَ رَأْسِهِ مَقْعَدُ رَجُلٍ، فَقَامَ أَبُو جَهْلٍ فَقَعَدَ فِيهِ، فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يَقَعُ فِي آلِهَتِنَا، قَالَ: مَا شَأْنُ قَوْمِكَ يَشْكُونَكَ؟ قَالَ:" يَا عَمِّ، أُرِيدُهُمْ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ تَدِينُ لَهُمْ بِهَا الْعَرَبُ وَتُؤَدِّي الْعَجَمُ إِلَيْهِمْ الْجِزْيَةَ"، قَالَ: مَا هِيَ؟ قَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ"، فَقَامُوا، فَقَالُوا: أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا، قَالَ: وَنَزَلَ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ سورة ص آية 1 - 5 , قَالَ عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبِي: وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وقَالَ أَبِي: قَالَ الْأَشْجَعِيُّ: يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوطالب بیمار ہوئے، قریش کے کچھ لوگ ان کی بیمار پرسی کے لئے آئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے، ابوطالب کے سرہانے ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ خالی تھی، وہاں ابوجہل آ کر بیٹھ گیا، قریش کے لوگ ابوطالب سے کہنے لگے کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں میں کیڑے نکالتا ہے، ابوطالب نے کہا کہ آپ کی قوم کے یہ لوگ آپ سے کیا شکایت کر رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چچا جان! میں ان کو ایسے کلمے پر لانا چاہتا ہوں جس کی وجہ سے سارا عرب ان کی اطاعت کرے گا اور سارا عجم انہیں ٹیکس ادا کرے گا، انہوں نے پوچھا: وہ کون سا کلمہ ہے؟ فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» یہ سن کر وہ لوگ یہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے کہ کیا یہ سارے معبودوں کو ایک معبود بنانا چاہتا ہے؟ اس پر سورت صٓ نازل ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تلاوت فرمائی یہاں تک کہ « ﴿إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ﴾ » پر پہنچے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2008]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يحيي بن عمارة مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف، يحيي بن عمارة مجهول.
← پچھلی حدیث (2007) باب پر واپس اگلی حدیث (2009) →