بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2005
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2005
حدیث نمبر: 2005 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى ، الْأَعْمَشَ ، مُسْلِمٌ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، حَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَمَاتَتْ، أَفَأَصُومُهُ عَنْهَا؟ قَالَ:" لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ، أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" فَدَيْنُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی قضاء کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں یا نہیں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں، فرمایا: پھر اللہ کا قرض تو ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2005]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1953 - تعليقاً، م: 1148.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1953 - تعليقاً، م: 1148.
← پچھلی حدیث (2004) باب پر واپس اگلی حدیث (2006) →