يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ بَدْءُ الْإِيضَاعِ مِنْ قِبَلِ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، كَانُوا يَقِفُونَ حَافَتَيْ النَّاسِ حَتَّى يُعَلِّقُوا الْعِصِيَّ , وَالْجِعَابَ , وَالْقِعَابَ، فَإِذَا نَفَرُوا، تَقَعْقَعَتْ تِلْكَ، فَنَفَرُوا بِالنَّاسِ، قَالَ: وَلَقَدْ رُئِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّ ذِفْرَى نَاقَتِهِ لَيَمَسُّ حَارِكَهَا، وَهُوَ يَقُولُ بِيَدِهِ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سواریوں کو تیز کرنے کا آغاز دیہاتی لوگوں کی طرف سے ہوا تھا، یہ لوگ کناروں پر ٹھہرے ہوئے تھے تاکہ اپنی لاٹھیاں، ترکش اور پیالے لٹکا سکیں، جب انہوں نے کوچ کیا تو ان چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے گئے، انہوں نے کوچ تو لوگوں کے ساتھ کیا تھا (لیکن مذکورہ طریقے سے) اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کے دونوں کانوں کا پچھلا حصہ فیل بان کو چھو رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ”لوگو! سکون اختیار کرو، لوگو! سکون اور وقار اختیار کرو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2193]
الحكم: إسناده حسن