سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَابْنُ أَخِي ابْنِ شهاب ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، ابْنَ الْمُسَيَّبِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أخبرنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، وَابْنُ أَخِي ابْنِ شهاب ، كلاهما عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيَعْقُوبُ قَالَ , حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى، فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ، يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى , قَالَ يَعْقُوبُ: فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَحَسِبْتُ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسری کے نام اپنا نامہ مبارک دے کر سیدنا عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا، انہوں نے وہ خط کسری کے مقرر کردہ بحرین کے گورنر کو دیا تاکہ وہ اسے کسری کی خدمت میں (رواج کے مطابق) پیش کرے، چنانچہ گورنر بحرین نے کسری کی خدمت میں وہ خط پیش کر دیا، اس نے جب اس خط کو پڑھا تو اسے چاک کر دیا، امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے گمان کے مطابق سعید بن المسیب نے اس کے بعد یہ فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے بد دعا فرمائی کہ ”اسے بھی اسی طرح مکمل طور پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 64. وقوله : قال ابن شهاب : فحسيت ابن المسيب قال ...... هو مرسل
الحكم: إسناده صحيح، خ: 64. وقوله : قال ابن شهاب : فحسيت ابن المسيب قال ...... هو مرسل