مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، جَابِرٍ ، الشَّعْبِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا احْتَجَمَ , احْتَجَمَ فِي الْأَخْدَعَيْنِ" , قَالَ: فَدَعَا غُلَامًا لِبَنِي بَيَاضَةَ فَحَجَمَهُ، وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ مُدًّا وَنِصْفًا، قَالَ: وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ، فَحَطُّوا عَنْهُ نِصْفَ مُدٍّ، وَكَانَ عَلَيْهِ مُدَّانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب بھی سینگی لگواتے تو گردن کی دونوں جانب پہلوؤں کی رگوں میں لگواتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنو بیاضہ کے ایک غلام کو بلایا، اس نے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ڈیڑھ مد گندم بطور اجرت کے عطاء فرمائی، اور اس کے آقاؤں سے اس سلسلے میں بات کی چنانچہ انہوں نے اس سے نصف مد کم کر دیا، ورنہ پہلے اس پر پورے دو مد تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2155]
حکم دارالسلام
قوله: «أحتجم فى الأخدعين» حسن لغيره، وبقيته صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر.
الحكم: قوله: «أحتجم فى الأخدعين» حسن لغيره، وبقيته صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جابر.