بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2149
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2149
حدیث نمبر: 2149 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، عِكْرِمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلِيلٌ، يَشُقُّ عَلَيَّ الْقِيَامُ، فَأْمُرْنِي بِلَيْلَةٍ لَعَلَّ اللَّهَ يُوَفِّقُنِي فِيهَا لِلَيْلَةِ الْقَدْرِ , قَالَ:" عَلَيْكَ بِالسَّابِعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں بہت بوڑھا ہوگیا ہوں، بیمار بھی رہتا ہوں اور مجھ پر قیام میں بھی بڑی مشقت ہوتی ہے، آپ مجھے کوئی ایسی رات بتا دیجئے جس میں اللہ کی طرف سے شب قدر ملنے کا امکان ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عشرہ اخیرہ کی ساتویں رات (27 ویں شب) کو لازم پکڑو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
← پچھلی حدیث (2148) باب پر واپس اگلی حدیث (2150) →