عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا طِيَرَةَ وَلَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ"، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرْبَاءَ، فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ، فَتَجْرَبُ! قَالَ:" فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیماری متعدی ہونے کا نظریہ صحیح نہیں، بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے، صفر کا مہینہ یا الو کے منحوس ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سو اونٹوں میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو کر ان سب کو خارش زدہ کر دیتا ہے (اور آپ کہتے ہیں کہ بیماری متعدی نہیں ہوتی؟) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بتاؤ! اس پہلے اونٹ کو خارش میں کس نے مبتلا کیا؟“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3031]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك بن حرب عن عكرمة مضطرب، قد توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سماك بن حرب عن عكرمة مضطرب، قد توبع