عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ:" أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْكَ، أَنَّكَ وَقَعْتَ عَلَى جَارِيَةِ بَنِي فُلَانٍ؟" قَالَ: فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ، قَالَ: فَرَجَمَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملے اور فرمایا: ”تمہارے بارے میں مجھے جو بات معلوم ہوئی ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم سے آل فلاں کی باندی کے ساتھ گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے؟“ انہوں نے اپنے متعلق چار مرتبہ اس کا اعتراف کر لیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3028]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 1693
الحكم: إسناده حسن، م: 1693