بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1877
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1877
حدیث نمبر: 1877 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، خُصَيْفٌ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ ، حَدَّثَنِي خُصَيْفٌ , عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنُ عَبَّاسٍَ ،" أَنَّهُ طَافَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بِالْبَيْتِ، فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ لَه: لِمَ تَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْبَيْتِ مَهْجُورًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: صَدَقْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے تمام کونوں کا استلام کرنے لگے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ آپ ان دو کونوں کا استلام کیوں کر رہے ہیں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا استلام نہیں کیا؟ انہوں نے فرمایا کہ بیت اللہ کے کسی حصے کو ترک نہیں کیا جا سکتا، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت پڑھی: « ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الأحزاب: 21] » تمہارے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے سچ کہا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1877]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، خصيف سيء الحفظ لكنه متابع.
الحكم: حسن لغيره، خصيف سيء الحفظ لكنه متابع.
← پچھلی حدیث (1876) باب پر واپس اگلی حدیث (1878) →