عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ رَكْعَتَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ بِلَالٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفَّى مِنْ عِنْدِهِنَّ أَنْ يَأْتِيَهُنَّ فَيَأْمُرَهُنَّ أَنْ يَتَصَدَّقْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عید کے دن خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیال آیا کہ عورتوں کے کانوں تک تو آواز پہنچی ہی نہیں ہوگی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کے پاس آ کر انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 98، م: 883.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 98، م: 883.