مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِيدَ ثُمَّ خَطَبَ، وَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ خَطَبَ، وَعُمَرُ ثُمَّ خَطَبَ، وَعُثْمَانُ ثُمَّ خَطَبَ، بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ، اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ موجود رہے ہیں، یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2173]
حکم دارالسلام
صحيح، وفي حفظ مؤمل بن إسماعيل شيء، لكنه توبع
الحكم: صحيح، وفي حفظ مؤمل بن إسماعيل شيء، لكنه توبع