عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، مِقْسَمٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مِقْسَمٍ وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، وَلَا أَقُولُهُ فَخْرًا: بُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، فَلَيْسَ مِنْ أَحْمَرَ وَلَا أَسْوَدَ يَدْخُلُ فِي أُمَّتِي إِلَّا كَانَ مِنْهُمْ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے پانچ ایسی خصوصیات عطا فرمائی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، اور میں یہ بات فخر کے طور پر بیان نہیں کر رہا، مجھے ہر سرخ اور سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، اس لئے جو سرخ یا سیاہ رنگت والا میری امت میں شامل ہو جائے گا وہ اس میں ہی شمار ہوگا اور میرے لئے ساری زمین کو مسجد بنا دیا گیا ہے۔“ فائدہ: وضاحت کے لئے حدیث نمبر 2742 دیکھئے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2256]
حکم دارالسلام
حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم و يزيد بن أبى زياد
الحكم: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم و يزيد بن أبى زياد