سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَدْ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، أَمْ لَا؟ وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ: وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا سورة مريم آية 8 أَوْ 0 عُسُيًّا" 0؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام سنتوں کو محفوظ کر لیا ہے لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت فرماتے تھے یا نہیں؟ اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس لفظ کو کس طرح پڑھتے تھے «وَقَدْ بَلَغْتُ مِنْ الْكِبَرِ عُتِيًّا» (عین کے پیش اور تاء کے ساتھ) «أَوْ عُسُيًّا» (عین کے پیش اور سین کے ساتھ)؟ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2246]
الحكم: إسناده صحيح