عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَجَّاجٍ ، الْحَكَمِ ، مِقْسَمٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَجُلًا أَخَذَ امْرَأَةً، أَوْ سَبَاهَا، فَنَازَعَتْهُ قَائِمَ سَيْفِهِ، فَقَتَلَهَا، فَمَرَّ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ بِأَمْرِهَا , فَنَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت کو قیدی بنا کر گرفتار کر لیا، اس عورت نے اس کی تلوار کے دستے میں اس کے ساتھ مزاحمت کی (اس کی تلوار چھیننے کی کوشش کی) تو اس آدمی نے اسے قتل کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ساری بات بتائی گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2316]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحجاج بن أرطاة مدلس وقد عنعن