بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2314
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2314
حدیث نمبر: 2314 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَال عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَدَّقَ أُمَيَّةَ فِي شَيْءٍ مِنْ شِعْرِه، فَقَالَ: رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ وَالنَّسْرُ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ" , وَقَالَ: وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَرَّدُ تَأْبَى فَمَا تَطْلُعْ لَنَا فِي رِسْلِهَا إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَدَقَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کو سچا قرار دیا ہے، چنانچہ ایک مرتبہ امیہ نے یہ شعر کہا کہ وہ ایسا بہادر آدمی ہے جس کے دائیں پاؤں کے نیچے بیل اور بائیں پاؤں کے نیچے گدھ ہے اور شیر کی تاک میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اسی طرح اس نے ایک مرتبہ یہ شعر کہے کہ سورج ہر سرخ رات کے آخر میں طلوع ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلاب کے پھول کی طرح ہو رہا ہوتا ہے، وہ انکار کرتا ہے اور دوبارہ طلوع نہیں ہوتا مگر سزا یافتہ ہو کر یا کوڑے کھا کر، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر بھی اس کی تصدیق کی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2314]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، والتصريح بالتحديث إنما جاء عن غير الثقات من أصحابه، ولو ثبت تصريح ابن إسحاق فلا يعتد به فى مثل هذا المطلب
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، والتصريح بالتحديث إنما جاء عن غير الثقات من أصحابه، ولو ثبت تصريح ابن إسحاق فلا يعتد به فى مثل هذا المطلب
← پچھلی حدیث (2313) باب پر واپس اگلی حدیث (2315) →