عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّقِيرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ذِي إِكَاءٍ" , فَصَنَعُوا جُلُودَ الْإِبِلِ، ثُمَّ جَعَلُوا لَهَا أَعْنَاقًا مِنْ جُلُودِ الْغَنَمِ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا إِلَّا فِيمَا أَعْلَاهُ مِنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نقیر، دباء اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے کہ ”صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جنہیں باندھا جا سکے“ (منہ بند ہو جائے)، لوگوں نے اونٹ کی کھالوں کے مشکیزے بنائے اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے بکری کی کھال استعمال کرنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو فرمایا کہ ”صرف ان برتنوں میں پانی پیا کرو جن کا اوپر والا حصہ بھی ان برتنوں کا جزو ہو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2607]
حکم دارالسلام
هذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله. لكن النهي عن النقير والدباء والمزفت صحيح
الحكم: هذا إسناد ضعيف لضعف حسين بن عبدالله. لكن النهي عن النقير والدباء والمزفت صحيح