بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2598
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2598
حدیث نمبر: 2598 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، وَعَطَاءٍ , وَمُجَاهِدٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا، وَأَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ لَنَا مِمَّا نَهَانَا عَنْهُ، قَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيَذَرْهَا، أَوْ لِيَمْنَحْهَا" , قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِطَاوُسٍ، وَكَانَ يَرَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ أَعْلَمِهِمْ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، أَنْ يَمْنَحَهَا أَخَاهُ، خَيْرٌ لَهُ" , قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يَجْمَعُ هَؤُلَاءِ طَاوُسًا، وَعَطَاءً، وَمُجَاهِدًا، وَكَانَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنْهُ مُجَاهِدٌ، قَالَ شُعْبَةُ: كَأَنَّهُ صَاحِبُ الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لئے نفع بخش تھا، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم زیادہ بہتر ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس کوئی زمین ہو اسے وہ خود کاشت کرے، یا چھوڑ دے، یا پھر کسی کو ہبہ کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات طاؤس سے ذکر کی تو انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ تم میں سے کسی شخص کا اپنی زمین اپنے بھائی کو بطور ہدیہ کے پیش کر دینا اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اس پر کوئی معین کرایہ وصول کرے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2598]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2330، م: 1550
← پچھلی حدیث (2597) باب پر واپس اگلی حدیث (2599) →