عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَعُمَرُ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَمَضَى حَتَّى أَتَى الْبَيْتَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ بُرْدَ حِبَرَةٍ كَانَ مُسَجًّى بِهِ، فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ يُقَبِّلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَوْتَتَيْنِ، لَقَدْ مِتَّ الْمَوْتَةَ الَّتِي لَا تَمُوتُ بَعْدَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے بول رہے تھے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے اس کمرے میں پہنچے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا تھا، یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مقدسہ میں، وہاں پہنچ کر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رخ زیبا سے دھاری دار چادر کو ہٹایا جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ڈال دی گئی تھی، اور رخ انور کو دیکھتے ہی اس پر جھک کر اسے بوسے دینے لگے، پھر فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ آپ پر دو موتیں کبھی جمع نہیں کرے گا، آپ پر ایسی موت طاری ہوئی ہے جس کے بعد آپ پر کبھی موت نہ آئے گی۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3090]
الحكم: إسناده صحيح