يَزِيدُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ، حِينَ أَتَاهُ، فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا، قال:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ:" فَنِكْتَهَا؟" , قَالَ: نَعَمْ , فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا؟ یا تم نے اسے صرف چھوا ہوگا؟“ انہوں نے کہا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! تب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2129]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6824.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6824.