عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، أَبُو جَمْرَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى , قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوجمرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لوگوں کے بےقابو ہجوم کو دور رکھتا تھا، لیکن کچھ عرصہ نہ جا سکا، بعد میں جب حاضر خدمت ہوا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے اتنے دن نہ آنے کی وجہ پوچھی، میں نے عرض کیا کہ بخار ہو گیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بخار جہنم کی گرمی کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے آب زمزم سے ٹھنڈا کیا کرو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2649]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3261
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3261