عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، أَيُّوبُ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ , قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" لَا حَرَجَ" , وَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ , قَالَ: فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" لَا حَرَجَ" , قَالَ: فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ مِنَ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ، إِلَّا أَوْمَأَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" لَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے قربانی سے پہلے حلق کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، پھر ایک اور آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا کہ ”کوئی حرج نہیں“، اس دن تقدیم و تاخیر کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو سوال بھی پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے فرما دیا: ”کوئی حرج نہیں۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2648]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307
الحكم: إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307