بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2639
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2639
حدیث نمبر: 2639 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، بن عباس
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّهُ يَقْدُمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمْ الْحُمَّى , قَالَ: فَأَطْلَعَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ،" فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا، وَقَعَدَ الْمُشْرِكُونَ نَاحِيَةَ الْحَجَرِ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِمْ، فَرَمَلُوا وَمَشَوْا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ"، قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: هَؤُلَاءِ الَّذِينَ تَزْعُمُونَ أَنَّ الْحُمَّى وَهَنَتْهُمْ؟! هَؤُلَاءِ أَقْوَى مِنْ كَذَا وَكَذَا , ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا إِبْقَاءٌ عَلَيْهِمْ" , وَقَدْ سَمِعْتُ حَمَّادًا يُحَدِّثُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عن بن عباس , وقد سمعت حماداً يذكره , عن ابن جبير , لَا شَكَّ فِيهِ عَنْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضا کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مدینہ منورہ کے بخار کی وجہ سے وہ لوگ کمزور ہو چکے تھے، مشرکین استہزاء کرنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی اس بات کی اطلاع دے دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین حجر اسود والے کونے میں بیٹھے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے، جب مسلمانوں نے رمل کرنا اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان چلنا شروع کیا تو مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی ہیں جن کے بارے تم یہ سمجھ رہے تھے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر کردیا ہے، یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ طاقتور معلوم ہو رہے ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مشرکین کے دلوں میں اس افسوس کو مزید پختہ کرنے کے لئے ہی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پورے چکر میں رمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2639]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
← پچھلی حدیث (2638) باب پر واپس اگلی حدیث (2640) →