رَوْحٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا، قَالَتْ: إِنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ قَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ. فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَامِهِ الَّذِي اعْتَمَرَ فِيهِ، قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ لِيَرَى الْمُشْرِكُونَ قُوَّتَكُمْ" فَلَمَّا رَمَلُوا، قَالَتْ قُرَيْشٌ: مَا وَهَنَتْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جب عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین استہزاء کہنے لگے کہ تمہارے پاس ایک ایسی قوم آ رہی ہے جسے یثرب کے بخار نے لاغر کر دیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو پہلے تین چکروں میں رمل کرنے کا حکم دے دیا، مشرکین آپس میں کہنے لگے کہ انہیں یثرب کے بخار نے لاغر نہیں کیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3536]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1602، م: 1266