بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2757
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2757
حدیث نمبر: 2757 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَسْوَدُ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ، ثُمَّ ابْنُوا، وَمَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَمَ عَلَى حَائِطِهِ، فَلْيَدَعْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب راستے میں تمہارا اختلاف رائے ہو جائے تو اسے سات گز بنا لیا کرو، اور جس شخص سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر اپنا شہتیر رکھنے کی درخواست کرے تو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کی لکڑی کے ساتھ ستون بنا لے (تاکہ اس کی عمارت نہ گر سکے)۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2757]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ لكنه توبع ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
← پچھلی حدیث (2756) باب پر واپس اگلی حدیث (2758) →