عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَابِتٌ ، هِلَالٌ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارَانِ، إِلَّا أَنْ أُعِدَّهُمَا لِدَيْنٍ" , قَالَ: فَمَاتَ وَمَا تَرَكَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا وَلَا وَلِيدَةً، وَتَرَكَ دِرْعَهُ رَهْنًا عِنْدَ يَهُودِيٍّ بثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ آل محمد کے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنا دیا جائے اور میں اس میں سے اللہ کے نام پر خرچ کرتا رہوں اور جس دن مروں تو اس میں سے دو دینار بھی میرے پاس بچے ہوں، سوائے ان دو دیناروں کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں، بشرطیکہ قرض ہو بھی۔“ چنانچہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ترکہ میں کوئی دینار یا درہم اور کوئی غلام یا باندی نہ چھوڑی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیس صاع جو لئے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2743]
الحكم: إسناده صحيح