أَسْوَدُ ، أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" بَيْعِ الْغَرَرِ" , قَالَ أَيُّوبُ: وَفَسَّرَ يَحْيَى بَيْعَ الْغَرَرِ، قَالَ: إِنَّ مِنَ الْغَرَرِ ضَرْبَةَ الْغَائِصِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ الْعَبْدُ الْآبِقُ، وَبَيْعُ الْبَعِيرِ الشَّارِدِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ تُرَابُ الْمَعَادِنِ، وَبَيْعُ الْغَرَرِ مَا فِي ضُرُوعِ الْأَنْعَامِ، إِلَّا بِكَيْلٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دھوکہ کی بیع اور تجارت سے منع فرمایا ہے۔ راوی حدیث ایوب کہتے ہیں کہ یحییٰ نے دھوکہ کی تجارت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ کوئی آدمی یہ کہے کہ میں دریا میں جال پھینک رہا ہوں، جتنی مچھلیاں اس میں آگئیں، میں اتنے روپے میں انہیں آپ کے ہاتھ فروخت کرتا ہوں، اور بھگوڑے غلام کو فروخت کرنا، بدک جانے والی وحشی بکری کی فروخت، جانوروں کے حمل کی فروخت، کانوں کی مٹی کی فروخت، اور جانور کے تھنوں میں موجود دودھ کی بلا اندازہ فروخت بھی شامل ہے، ہاں! اگر دودھ ناپ کر بیچا جائے تو جائز ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2752]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن عتبة ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن عتبة ضعيف