جَرِيرٌ ، قَابُوسَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ قَابُوسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ," كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، ثُمَّ أُمِرَ بِالْهِجْرَةِ، وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا سورة الإسراء آية 80".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابتداء میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہجرت کا حکم دے دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: « ﴿وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا﴾ [الإسراء: 80] » ”اے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے پروردگار! مجھے عمدگی کے ساتھ داخل فرما اور عمدگی کے ساتھ نکلنا نصیب فرما اور اپنے پاس سے مجھے ایسا غلبہ عطاء فرما جس میں تیری مدد شامل ہو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1948]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف قابوس.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف قابوس.