بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 2430
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 2430
حدیث نمبر: 2430 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مُغِيبًا أَتَتْ رَجُلًا تَشْتَرِي مِنْهُ شَيْئًا، فَقَالَ: ادْخُلِي الدَّوْلَجَ حَتَّى أُعْطِيَكِ , فَدَخَلَتْ، فَقَبَّلَهَا وَغَمَزَهَا، فَقَالَتْ: وَيْحَكَ، إِنِّي مُغِيبٌ , فَتَرَكَهَا، وَنَدِمَ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ، فَأَتَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، فَلَعَلَّهَا مُغِيبٌ! قَالَ: فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , قَالَ: فائْتِ أَبَا بَكْرٍ فَاسْأَلْهُ، فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَيْحَكَ، لَعَلَّهَا مُغِيبٌ! قَالَ: فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , قَالَ: فَائتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّهَا مُغِيبٌ!" , قَالَ: فَإِنَّهَا مُغِيبٌ , فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 , قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهِيَ فِيَّ خَاصَّةً، أَوْ فِي النَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: لَا، وَلَا نَعْمَةَ عَيْنٍ لَكَ، بَلْ هِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً , قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" صَدَقَ عُمَرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک عورت کا شوہر اس کے پاس موجود نہ تھا، وہ ایک شخص کے پاس کچھ خریداری کرنے کے لئے آئی، اس نے اس عورت سے کہا کہ گودام میں آ جاؤ، میں تمہیں وہ چیز دے دیتا ہوں، وہ عورت جب گودام میں داخل ہوئی تو اس نے اسے بوسہ دے دیا اور اس سے چھیڑ خانی کی، اس عورت نے کہا کہ افسوس! میرا تو شوہر بھی غائب ہے، اس پر اس نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی حرکت پر نادم ہوا، پھر وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس مسئلے کا حل تم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر ان سے معلوم کرو، چنانچہ اس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، انہوں نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس کا شوہر اللہ کے راستہ میں جہاد کی وجہ سے موجود نہ ہوگا، پھر انہوں نے اسے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیج دیا۔ وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ سنایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ شاید اس عورت کا خاوند موجود نہیں ہوگا؟ اور اس کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی: «‏‏‏‏ ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ﴾ [هود: 114] » دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کیجئے، بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کردیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے۔ اس آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا قرآن کریم کا یہ حکم خاص طور پر میرے لئے ہے یا سب لوگوں کے لئے یہ عمومی حکم ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا: تو اتنا خوش نہ ہو، یہ سب لوگوں کے لئے عمومی حکم ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عمر نے سچ کہا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2430]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف مؤمل وعلي بن زيد ولين يوسف بن مهران
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف مؤمل وعلي بن زيد ولين يوسف بن مهران
← پچھلی حدیث (2429) باب پر واپس اگلی حدیث (2431) →