أَبُو سَعِيدٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كِنَانَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي هِشَامَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَ الْوَلِيدُ، يَسْأَلُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الِاسْتِسْقَاءِ؟ فَقَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَبَذِّلًا مُتَخَشِّعًا، فَأَتَى الْمُصَلَّى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا يُصَلِّي فِي الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ولید نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نماز استسقاء کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول مبارک پوچھنے کے لئے بھیجا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح (نماز استسقاء پڑھانے کے لئے) باہر نکلے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خشوع و خضوع اور عاجزی وزاری کرتے ہوئے، (کسی قسم کی زیب و زینت کے بغیر، آہستگی اور وقار کے ساتھ چل رہے تھے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2423]
الحكم: حسن