إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، جَرِيرٌ ، يَعْلَي بْنِ حَكِيمٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَعْلَي بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا أَتَاهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:" لَعَلَّكَ قَبَّلْتَ، أَوْ غَمَزْتَ، أَوْ نَظَرْتَ؟" , قَالَ: لَا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنِكْتَهَا؟" , لَا يُكَنِّي، قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ بِرَجْمِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”شاید تم نے اسے بوسہ دیا ہوگا، یا چھیڑ خانی کی ہوگی، یا دیکھا ہوگا؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں! تب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6824