يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِمَاعِزٍ حِينَ قَالَ: زَنَيْتُ:" لَعَلَّكَ غَمَزْتَ، أَوْ قَبَّلْتَ، أَوْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟"، قَالَ: كَأَنَّهُ يَخَافُ أَنْ لَا يَدْرِيَ مَا الزِّنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اعتراف جرم کے لئے حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”شاید تم نے اس کے ساتھ چھیڑ خانی کی ہوگی؟ یا بوسہ دے دیا ہوگا؟ یا اسے دیکھا ہوگا؟“ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو در اصل یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اسے زنا کا مطلب ہی معلوم نہ ہو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6824
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6824