أَسْبَاطٌ ، مُطَرِّفٌ ، عَطِيَّةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ سورة المدثر آية 8، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدْ الْتَقَمَ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَسَّمَّعُ مَتَى يُؤْمَرُ، فَيَنْفُخُ؟"، فَقَالَ: أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ: كَيْفَ نَقُولُ؟ قَالَ:" قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلْنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت قرآنی: « ﴿فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ﴾ [المدثر: 8] » ”جب صور پھونکا جائے گا۔“ کا مطلب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں عیش و عشرت کی زندگی کیسے بسر کر سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے اور اپنی پیشانی کو حکم سننے کے لئے جھکا رکھا ہے کہ جیسے ہی حکم ملے، صور پھونک دے“، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہمیں کیا دعا پڑھنی چاہیے؟ فرمایا: ”یہ کہتے رہا کرو: «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا» ۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3008]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف عطية
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لضعف عطية