بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3001
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3001
حدیث نمبر: 3001 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ بَدْرٍ: عَلَيْكَ الْعِيرَ لَيْسَ دُونَهَا شَيْءٌ. قَالَ: فَنَادَاهُ الْعَبَّاسُ: إِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكَ، إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ، وَقَدْ أَعْطَاكَ مَا وَعَدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تو کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ اب قریش کے قافلہ کے پیچھے چلئے، اس تک پہنچنے کے لئے اب کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ سن کر عباس نے - جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے - پکار کر کہا کہ یہ آپ کے لئے مناسب نہیں ہے، پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے آپ سے دو میں سے کسی ایک گروہ کا وعدہ کیا تھا اور وہ اس نے آپ کو دے دیا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3001]
حکم دارالسلام
رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب. صححه الحاكم، وجود إسناده أبن كثير، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح
الحكم: رواية سماك عن عكرمة فيها اضطراب. صححه الحاكم، وجود إسناده أبن كثير، وقال الترمذي: حديث حسن صحيح
← پچھلی حدیث (3000) باب پر واپس اگلی حدیث (3002) →