رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَبِى سِنَانٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِى سِنَانٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ:" لَا، بَلْ حَجَّةٌ، فَمَنْ حَجَّ بَعْدَ ذَلِكَ، فَهُوَ تَطَوُّعٌ، وَلَوْ قُلْتُ نَعَمْ. لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَمْ تَسْمَعُوا وَلَمْ تُطِيعُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”لوگو! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے“، یہ سن کر) اقرع بن حابس کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا، لیکن اگر ایسا ہو جاتا تو تم اس پر عمل نہ کر سکتے، ساری زندگی میں حج ایک مرتبہ فرض ہے، اس سے زائد جو ہو گا وہ نفلی حج ہو گا۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3510]
الحكم: حديث صحيح