رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: تَرَاءَيْنَا هِلَالَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ نَسْأَلُهُ، فَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ مَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ ”ذات عرق“ میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آ گیا، ہم نے ایک آدمی کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد ذکر کیا کہ ”اللہ نے چاند کی رؤیت میں وسعت دی ہے، اس لئے اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3515]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1088
الحكم: إسناده صحيح، م: 1088