أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، كَامِلٌ ، حَبِيبٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا كَامِلٌ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: فَانْتَبَهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ، قَالَ فِي رُكُوعِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ مَا شَاءَ أَنْ يَحْمَدَهُ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ، قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ:" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى"، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَكَانَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ": رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي، وَارْزُقْنِي، وَاهْدِنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں رات گزاری، پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کر کے فرمایا کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکوع کیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ» کہہ رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور اللہ کی تعریف کی جب تک مناسب سمجھا، پھر سجدہ کیا اور سجدے میں «سُبْحَانَ رَبَّيَ الْأَعْلَىٰ» کہتے رہے، پھر سر اٹھا کر دو سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھی: «رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْفَعْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي» ”پروردگار! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری تلافی فرما، مجھے رفعت عطا فرما، مجھے رزق عطا فرما اور مجھے ہدایت عطا فرما۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3514]
الحكم: حديث حسن