هُشَيْمٌ ، عَوْفٌ ، زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ:" هَلُمَّ الْقُطْ لِي" , فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ، هُنْ حَصَى الْخَذْفِ، فَلَمَّا وَضَعَهُنَّ فِي يَدِهِ، قَالَ:" نَعَمْ، بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح مجھ سے فرمایا: ”ادھر آ کر میرے لئے کنکریاں چن کر لاؤ“، میں نے کچھ کنکریاں چنیں جو ٹھیکری کی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا: ”ہاں! اس طرح کی کنکریاں ہونی چاہئیں، دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئے تھے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1851]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح