هُشَيْمٌ ، مَنْصُورٌ ، عَطَاءٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حدثنا هُشَيْمٌ , أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ، وَنَحْوِ ذَلِكَ فَجَعَلَ، يَقُول:" لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو قربانی کرنے سے پہلے حلق کروا لے یا ترتیب میں کوئی اور تبدیلی ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سوال کے جواب میں یہی فرماتے رہے کہ ”کوئی حرج نہیں۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1857]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 84، م: 1307.