بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3394
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3394
حدیث نمبر: 3394 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنِّي رَجُلٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ؟، قَالَ: فَإِنِّي لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، سمعتهُ يقول:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مُعَذِّبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا"، قَالَ: فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً، فَاصْفَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَيْحَكَ، إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ، وَكُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے ابوالعباس! میں تصویر سازی کا کام کرتا ہوں، میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی کاریگری ہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں وہ بات بتا دیتا ہوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے کہ جو شخص تصویر سازی کرتا ہے اللہ اسے قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرے گا تاکہ وہ ان تصویروں میں روح پھونکے، لیکن وہ کبھی بھی ایسا نہیں کر سکے گا، یہ سن کر وہ شخص سخت پریشان ہوا اور اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: ارے بھئی! اگر تمہارا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا تو درختوں اور غیر ذی روح چیزوں کی تصویریں بنا لیا کرو۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2225، م: 2110
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2225، م: 2110
← پچھلی حدیث (3393) باب پر واپس اگلی حدیث (3395) →