يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ جُلُوسٌ، فَقَالَ:" أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً" , قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، حَتَّى يَمُوتَ أَوْ يُقْتَل، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ؟" , قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" امْرُؤٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ , يُقِيمُ الصَّلَاة، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْتَزِلُ شُرُورَ النَّاسِ، أَفَأُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ النَّاسِ مَنْزِلَةً؟" , قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ وَلَا يُعْطِي بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ ”کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے بہتر مقام و مرتبہ کس شخص کا ہے؟“ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ شخص جس نے اپنے گھوڑے کا سر تھام رکھا ہو اور اللہ کے راستہ میں نکلا ہوا ہو تاآنکہ فوت ہو جائے یا شہید ہو جائے۔“ پھر فرمایا: ”اس کے بعد والے آدمی کا پتہ بتاؤں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ آدمی جو ایک گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو، نماز پڑھتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور برے لوگوں سے بچتا ہو، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو سب سے بدترین مقام کا حامل ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: جی یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے نام پر کسی سے مانگے اور اسے کچھ نہ ملے۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 2116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.