بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 3104
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 3104
حدیث نمبر: 3104 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي حَمْزَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ غُلَامًا أَسْعَى مَعَ الْغِلْمَانِ، فَالْتَفَتُّ، فَإِذَا أَنَا بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفِي مُقْبِلًا، فَقُلْتُ: مَا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِلَيَّ، قَالَ: فَسَعَيْتُ حَتَّى أَخْتَبِئَ وَرَاءَ بَابِ دَارٍ، قَالَ: فَلَمْ أَشْعُرْ حَتَّى تَنَاوَلَنِي، فَأَخَذَ بِقَفَايَ، فَحَطَأَنِي حَطْأَةً، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ" قَالَ: وَكَانَ كَاتِبَهُ، فَسَعَيْتُ فَأَتَيْتُ مُعَاوِيَةَ، فَقُلْتُ: أَجِبْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ عَلَى حَاجَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک مرتبہ میرے قریب سے گزر ہوا، میں اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، میں ایک دروازے کے پیچھے جا کر چھپ گیا، مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے گدی سے پکڑ کر پیار سے زمین پر پچھاڑ دیا، پھر مجھے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس انہیں بلانے کے لئے بھیج دیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کاتب تھے، میں دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس چلیے، انہیں آپ سے ایک کام ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3104]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
← پچھلی حدیث (3103) باب پر واپس اگلی حدیث (3105) →