عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ ، سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي، دَخَلَ الْجَنَّةَ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بِأَبِي، فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ؟ فَقَالَ:" وَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ"، قَالَتْ: فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي، لَمْ يُصَابُوا بِمِثْلِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”میری امت میں سے جو شخص اپنے دو کم سن بچے ذخیرے کے طور پر آگے بھیج چکا ہوگا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔“ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: میرے والد آپ پر قربان ہوں، یہ بتائیے کہ اگر کسی کا ایک بچہ فوت ہو تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: ”اے توفیق دی ہوئی عورت! اس کا بھی یہی حکم ہے“، انہوں نے پھر پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ کی امت میں سے اگر کسی کا کوئی ذخیرہ ہی نہ ہو تو؟ فرمایا: ”پھر میں اپنی امت کا ذخیرہ ہوں گا اور انہیں مجھ جیسا کوئی نہیں ملے گا۔“ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 3098]
الحكم: إسناده حسن